20 مئی 2012 - 19:30

صہیونی فوج نے نوکری چھوڑکرفرارکرنےوالوں کےخلاف بڑےپیمانےپرکارائياں شروع کردی ہیں۔

ابنا: صہیونی روزنامہ یدیعوت آحارنوت نےاعلان کیاہےکہ اسرائیلی فوج نےگذشتہ چنددنوں میں تقریباچارسوچوہترفوجیوں کوجوفوج سےفرارکرگئےتھےگرفتارکرلیاہے۔اس اخبارکےمطابق صیہونی فوج ، جیل کےایک حصےکوگرفتارکئےجانےوالےفراری فوجیوں کوبندرکھنےکےلئےاستعمال کررہی ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ کچہ دنوں پہلےبھی صیہونی اخبارنے اسرائیلی فوج سےفرارکرنےوالےفوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب اشارہ کرتےہوئےدوہزاردس میں ان کی تعداد اٹھارہ سوقراردی تھی جبکہ سن دوہزاربارہ کےپہلےپانچ مہینوں میں یہ تعداد بڑہ کرستائیس ہزار ہوگئ ہے۔اسرائیلی فوج، فراری فوجیوں کوگرفتارکرنےکےبعدان پرمقدمہ چلاتی ہے۔ قابل ذکراہےکہ صیہونی حکام نےگذشتہ مہینوں میں صیہونی فوج میں بڑھتی ہوئی نافرمانی پرخبردارکرتےہوئےتاکیدکی ہےکہ ان نافرمانیوں کاسلسلہ اگرجاری رہا تو اسرائیل ٹوٹ جائےگا۔واضح رہےکہ صیہونی حکومت ایک جعلی جارح اورقابض حکومت ہے جس کی توسیع پسندی اور زندگی کادارومدارفوج پرمنحصرہے اور اس بناپر صیہونی حکومت شدیدتشویش میں مبتلاہے۔ابھی کچہ ہی پہلےصیہونی فوج کےاعلی حکام نے فوج کےحوصلےپست ہونےاور جوانوں ميں فوج میں شامل ہونےکےلئےکوئي دلچسپی باقی نہ رہنےکواسرائیلی حکام کےلئےسب سےبڑا چیلنج قراردیاتھا۔گذشتہ برسوں میں صیہونی فوج کی جانب سے پیش کئےجانےوالےاعدادوشمارکےمطابق چالیس فیصدسےزیادہ افراد نےفوجی سروس کرنےسےانکارکردیاتھا۔صیہونی فوج کی آشفتہ حالت بالخصوص لبنانی اورفلسطینی عوام کےمقابلےمیں ان کی ناکامیوں کےبعد پیداہونےوالی یہ صورت حال صیہونی فوج میں شدیدبحران کی عکاس ہے۔صیہونی فوجیوں کےفوج سےبھاگنےیابڑےپیمانےپرنافرمانی کی مختلف وجوہات ہيں۔ ان میں سےایک بڑی وجہ یہ ہےکہ غاصب صیہونی حکومت انھیں اپنےتسلط پسندانہ مقاصد اورغاصبانہ پالیسیوں کےلئےآلہ کارسمجھتی ہے۔ صیہونی حکومت یہودی جوانوں کوفوج میں نوکری کےلئےمجبورکرتی ہے اورانھیں اپنےجرائم کےلئےاستعمال کرتی ہے۔اسرائیلی فوج کی اس صورت صورت حال نے،صیہونی حکومت کوایک طرح سے حیران کررکھاہے اور وہ چونکہ صیہونی سرغناؤں کےجرم میں شریک شمارہوتےہيں اس لئے شرمندگی محسوس کرتےہیں۔صیہونی فوج ميں پیداہونےوالےبحران میں ایسےعالم میں شدت آئی ہےکہ یہ سیاسی میدان میں بھی صیہونی حکام کےدرمیان طاقت کی جنگ کانیاسلسلہ شروع ہونےاورسیاسی دھڑےبندیوں کی وجہ سے ڈگمگارہی ہے۔جبکہ اقتصادی میدان میں بھی صیہونی حکام کی ناکارآمد پالیسیوں بالخصوص بھاری فوجی بجٹ اورمالی بدعنوانی کی بناپرصیہونی حکومت مختلف طرح کےاقتصادی مسائل سےدوچارہے۔صیہونی حکومت کی خراب معاشی صورت حال نے شہریوں کوبڑےپیمانےپرہڑتال اوراحتجاجی مظاہروں پرمجبورکردیاہےجس نےمختلف اقتصادی شعبوں کومفلوج کرکےرکھ دیاہے۔مذکورہ مسائل تمام سیاسی، فوجی اوراقتصادی میدانوں میں صیہونی حکومت کی کمزوری کوعیاں کرتےہيں۔......./169